چک پیراں کا جسا Free download Ï 105

characters â PDF, eBook or Kindle ePUB free ✓ Balwant Singh

چک پیراں کا جساAzed and always take inspiration from the contents of the boo. چک پیراں کا جسا پنجاب اور پنجاب کی روایتی رہتل کا بہترین ترجمان ناول ہے۔ کرداروں کی بنت سے لے کر سماجی ساخت کے ہر پہلو میں پنجاب نظر آتا ہے۔ یہ ناول پنجابی شناخت کو اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ پڑھنے والا خؤد کو کہانی کے کرداروں میں جیتا جاگتا محسوس کرتا ہے۔ کہانی کے بیان پر غور کریں تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ مصنف کے انداز و بیان سے منظر فلم کی طرح آںکھوں کے سامنے گھومتا ہے۔ جسے کا اپنے چاچے بگا سنگھ کی بات میں 'اچھا چاچا' کہنا بھی مختلف صورتحال میں بھی مختلف معانی دیتا ہے، ناول کی کہانی بڑی سیدھی سیدھی ہے لیکن بڑے خوبصورت انداز میں بہت سی پس پردہ حقیقتوں کو آشکار کرتی ہے۔

Balwant Singh ✓ 5 review

Is very good and a main topic to read the readers are very am. یہ ناول نہیں تھا، یہ تو پنجاب کے گاؤں کی ایک خوبصورت زندگی کا جیتا جاگتا منظر تھا جسے میں اپنی آنکھوں سے بچپن میں دیکھتا رہا بظاہر سکھوں کی طرز زندگی پر لکھا جانے والا یہ ناول، حقیقتاً پنجاب کی دیہی زندگی کا بھرپور عکاس ہے اور پڑھنے والا جہاں کہیں بھی بیٹھا ہو، دوران مطالعہ وہ خود کو اسی دلکش پانچ دریاؤں کی سرزمین پنجاب کے کسی پرانے گاؤں میں چلتا پھرتا محسوس کرتا ہے پنجاب دھرتی کے دیہی ماحول کو ابھارنے میں رام لعل، غلام الثقلین اور ابو الفضل کی بھی جاندار کوششیں ہیں لیکن اگر لکھنے والا بلونت سنگھ اور لکھا جانے والا چک پیراں کا جسا ہو تو پھر یقیناً ادبی دنیا کا ایک گھبرو اور منفرد ناول وجود میں آتا ہے ایک ایسا ناول جو قاری سے سانس لیتے زندہ انسان کی مانند گفتگو کرتا ہے اور بناوٹی انداز سے کہیں دور خالص زبان اور لہجے کی عکاسی بھی کرتا ہے بارہ ابواب میں منقسم یہ ناول جس کے ہر باب کو غلاف کے نام سے اور وارث شاہ کے کلام سے شروع کیا گیا ہے، سکھوں کی ثقافت، رسم و رواج، دشمنی، رومانوی زندگی، محبت اور نفرت سمیت ان کے مزاج اور اکھڑپن کو نہایت خوبصورت انداز سے پیش کرتا ہے ناول بنیادی طور پر دو مرکزی کرداروں بگا سنگھ اور جسا سنگھ کے گرد گھومتا ہے ان ہی دو کرداروں کے ارگرد پھر گوردیپ، رام پیاری، پورن سنگھ اور صورت سنگھ سمیت دیگر کردار بھی دکھائی دیتے ہیں یتیم بھتیجا جسا سنگھ کم عمری میں جب پہلی مرتبہ اپنے چاچے بگا سنگھ کے سامنے لایا جاتا ہے تو بگا سنگھ اسے کوئی اہمیت نہیں دیتا بلکہ اسے حقارت سے دیکھ کر اس کے سر کے جوڑے سے پکڑ کر ہوا میں لٹکاتا ہے اور کہتا ہے، پلا چاہے کتے کا ہو، یا آدمی کا، اس کی قوت برداشت کی جانچ کرنے کا یہی ایک طریقہ ہے کتے کے پلے کو ایک کان سے پکڑ کر ہوا میں اٹھا دو اگر پلا درد کے مارے ٹیاؤں ٹیاؤں کرنے لگے تو سمجھ لو کہ وہ کتا پالنے کے لائق نہیں ہے ایسا کتا گھر کی رکھوالی بھی نہیں کر سکتا اگر پلا ایسی درد کو چپ چاپ برداشت کر لے تو سمجھ لو کہ وہ بڑا ہو کر سارے گاؤں کے کتوں کو کھڈیرا کرے گا اور جس گھر میں ہو گا اس میں چور پاؤں نہیں رکھ سکیں گے یہ کہہ کر وہ ہوا میں ہی جسا سنگھ کا جوڑا چھوڑ دیتا ہے تو جسا ناریل کے پیڑ پر لگے ناریل کی طرح زمین پر آن گرتا ہے مگر پل بھر میں پھر اٹھ کر کھونٹے کی طرح سیدھا ہو جاتا ہے یہی پہلی نفرت عرصہ دراز تک ان کے دلوں میں موجود رہتی ہے اور بہت دیر بعد وقت یہ برف پگھلا کر دونوں کے دلوں میں کچھ نرم جذبات پیدا کر پاتا ہے بگا سنگھ اپنے اکھڑ اور ضدی مزاج کی بنا پر پورے گاؤں میں مشہور تو ہوتا ہی ہے لیکن ایک نئی آنے والی انجان عورت رام پیاری سے اس کے تعلقات اسے گاؤں میں بدنام بھی کر دیتے ہیں جبکہ جسا سنگھ اپنے چاچے کے برعکس اپنی محبت کو احتیاط اور عقل مندی سے خود تک منسلک رکھتا ہے اور دل و جان سے اس سے شادی کرنے کا خواہاں ہوتا ہے ان دونوں کے درمیان ان کے شریک چنن سنگھ اور اس کے بیٹے ان سے مسلسل دشمنی رکھتے ہیں اور ان کی مکاری سے ہی بگا سنگھ پہلے جیل کاٹتا ہے اور پھر گاؤں چھوڑ کر چلا جاتا ہے جبکہ جسا سنگھ ایک مضبوط، بہادر اور اکھڑ مزاج لے کر جوان ہوتا ہے اور اپنے چاچا بگا سنگھ کی زمینوں کو سنبھالتا بھی ہے اور وہیں موجود اپنی حسین معشوقہ سے ملاقاتیں بھی جاری رکھتا ہے اور آخر میں اپنا رعب اور دبدبہ پورے گاؤں میں باعزت طریقےسے برقرار رکھ کر اپنے تمام دشمنوں کو جھاگ کی طرح بیٹھ جانے پر مجبور کر دیتا ہے چک پیراں کا جسا، ایک منفرد اور خوبصورت کہانی ہے جو گاؤں کی منظر نگاری کے بل بوتے پر ناول کو چار چاند لگا دیتی ہے ناول کا پہلا غلاف یعنی پہلا باب وارث شاہ کے اس شعر سے شروع ہوتا ہے، جیہڑا آس کر کے ڈگے آن دوارے، جیو اوسدے کدے نہ توڑئیے جیوارث شاہ یتیم دی غور کرئیے، ہتھ عاجزی دے نال جوڑیے جی یعنی اگر کوئی آس کر کے دروازے پر آ گرے تو اس کا من کبھی نہیں توڑنا چاہیے، اے وارث شاہ یتیم کی دیکھ بھال کرنی چاہیے اور اس کے سامنے عاجزی سے ہاتھ جوڑنے چاہیئںاسی طرح دیباچے کا آغاز بھی وارث شاہ کے ایک خوبصورت شعر سے ہوتا ہے، صورت یوسف دی ویکھ طیموس بیٹی، انے مال تے ملک قربان ہوئینین مست کلیجڑے وچ دھانے جیویں ترکھڑی نوک سناں دی طیموس بادشاہ کی بیٹی یوسفعلیہ السلام جیسی شکل والے نوجوان کو دیکھ کر اپنے جاہ و چشم اور مال و دولت کے ساتھ اس پر نچھاور ہوگئی، اسے لگا، جیسے نوجوان کے مست نین اس کے کلیجے میں برچھی کی تیز نوک کی طرح دھنس گئے گاؤں کی منظر نگاری ناول میں مختلف مقامات پر دلچسپ انداز میں کی گئی ہے جیسا کہ، گاؤں میں کوئی خصوصیت نہیں تھی وہی کچی اینٹوں کے بنے ہوئے ابڑ کھبڑ چھتوں والے ناہموار مکان، باہر گندے پانی کا جوہر، جس میں اس وقت کچھ بھینسیں گھسی ہوئی تھیں ادھر ادھر اروڑیاں، گندگی کے دھیڑ دکھائی دے رہے تھے بیکار سے کتے کوڑا سونگتے پھر رہے تھے اور مرغیاں خوراک کی تلاش میں جگہ جگہ اروڑیوں کو کھود رہی تھیں اسی طرح ایک اور مقام پر ناول نگار بیان کرتے ہیں، جسو نے ایک نظر نئے مکان پر ڈالی کافی وشال صحن تھا مکان کی دیواریں گوبر مٹی اور بھوسے کے گارے سے لپی ہوئی تھیں اور خوب اجلی دکھائی دیتی تھیں داہنے ہاتھ کو تیں سیڑھیاں چڑھ کر باہر والا پسار یعنی برآمدہ تھا، اور دروازوں میں سے بھیتر کا پسار بھی دکھائی دے رہا تھا شیشم کی لکڑی کے بنے ہوئے خوب اونچے اور چوڑے دروازوں کے تختوں پر پیتل کی پھولدار ٹکیاں لوہے کے کیلوں سے جڑی ہوئی تھیں پسار کا صرف باہر والا حاشیہ پکی اینٹوں کا بنا ہوا تھا صحن کے کونے میں بالشت بھر اونچے چبوترے پر بغیر چھت کارسوئی گھر تھا، جہاں اس وقت دو چولہے جل رہے تھے رسوئی کے ایک کونے میں دھرتی کو کھود کر انگیٹھی بنائی گئی تطی زمین کے نیچے بنی انگیٹھی میں اپلے جلائے جاتے تھے اور اس میں ہر وقت دودھ سے بھری مٹی کی چاٹی رکھی رہتی تھی انگیٹھی کا منہ مٹی کے بنے بڑے سے گول ڈھکن سے ڈھکا رہتا تھا اپلوں کی دھیمی دھیمی آنچ سے دودھ پک پک کر گہرے بھورے رنگ کا ہو جاتا تھا اور اس کے اوپر ملائی کی موٹی سی تہہ جم جاتی تھی منظر نگاری اور کہانی کے لحاظ سے ناول ایک منفرد کشش کا حامل ہے جس میں بلونت سنگھ نے کسی قسم کی کمی نہیں چھوڑی ناول میں ایک جگہ لکھتے ہیں، گاؤں سے کافی دور پر ایک کنواں تھا کسی زمانے میں وہاں رہٹ چلا کرتا تھا دو بیل بھاری بھرکم چرکھڑے کو گھمایا کرتے تھے اور پانی ٹنڈوں میں سے چھلا چھل گر کر پاڑچھے کے ذریعے بہتا چلا جاتا تھا وہاں تھوڑی بہت گہما گہمی بھی رہتی تھی گاؤں سے زیادہ دوری پر ہونے کی وجہ سے عورتیں کپڑے دھونے کے لیے وہاں تک نہیں آتی تھیں لیکن کچھ منچلی پہنچ بھی جاتی تھیں وجہ یہ کہ وہاں ان کو بالکل تنہائی ملتی رھی کنویں سے نکلا ہوا پانی آس پاس کے کھیتوں کی سینچائی کرتا تھا رہٹ پر بیلوں کو ہانکنے کے لیے صرف ایک ادھ لڑکا موجود ہوتا تھا مرد کھیتوں میں ہوتے تھے عورتیں لڑکے کو بھگا دیتیں اور کسی لڑکی کو بیل ہانکنے پر لگا دیتیں تب سارے رہٹ پر انہیں کا راج ہو جاتا وہ بغیر کسی ڈر کے رہٹ کے پانی میں نہاتیں، کپڑے دھوتیں اور ادھ ننگی ادھر ادھر گھوم پھر کر کپڑے پھیلایا کرتی تھیں اردو ادب کے کلاسیک میں شمار کیا جانے والا یہ ناول چک پیراں کا جسا کسی پہاڑی چشمے کی مانند حرف اول سے آخر تک اپنی روانی اور بہاؤ برقرار رکھتا ہے جملوں اور مکالموں کے ساتھ ساتھ مناظر کا لطف بھی لیے ہوئے، یہ ناول ایک ہی نشست میں ختم کیے بنا چھوڑ دینا ممکن ہی نہیں ہے اسی لیے معراج خالد نے سچ لکھا تھا کہ اگر آپ یہ شاہکارخرید کر پڑھیں تو یقیناً رقم اور مطالعہ دونوں بیکار نہیں جائیں گے

Read & Download چک پیراں کا جسا

چک پیراں کا جسا Free download Ï 105 Ü ❴PDF / Epub❵ ☉ چک پیراں کا جسا Author Balwant Singh – Gym-apparel.co.uk Best E Book, چک پیراں کا جسا by Balwant Singh This is very good and a main topic to read, the readers are very amazed and always take inspiration from the contentsBest EBook چک پیراں کا جسا by Balwant Singh This. بلونت سنگھ سے میرا تعارف ان کے ناول رات چور اور چاند کے توسط سے ہوا۔ سادہ مگر سحر انگیز تحریر۔ کہانی ایسی کہ بس پڑھتے جائیں اور آخر تک کتاب نہ رکھ پائیں۔ اب ان کا دوسرا ناول چک پیراں کا جسا پڑھا۔ناول کی روح کو سمجھنے کے لئے آپ کو ناول کا کردار بننا پڑتا ہے۔ جب آپ کہانی کا کردار بن جاتے ہیں تو کہانی زندگی بن کر آپ میں سانس لیتی ہے۔ایک بار آپ تحریر کے ماحول میں پہنچ جائیں تو بلونت سنگھ آپ کی انگلی پکڑ کر ہر منظر کی سیر کرواتا ہے۔ رہی بات کہانی کی تو کہانی ایسی دلچسپ کہ آخری صفحہ تک تجسس قائم رہے۔ محض ایک کہانی ہے جو اپنے اندر ان گنت گہرائیوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔بلونت سنگھ ایک ماہر پینٹر ہے۔ گاوں کے ماحول، چوپال کی بیٹھک ،شریک داری، دیہاتی رہن سہن کو وہ اپنے کینوس پر پینٹ کرتا ہے۔ ۔۔۔ایک دن ہم نہیں ہونگے۔۔۔۔۔۔بلونت سنگھ ہوگا۔۔۔۔چک پیراں کا جسا زندہ رہے گا۔ محمد حامد سراج